ابھی تو ہم نے ایٹم بم چلانے ہیں۔۔

اتوار28 اکتوبر 2018
:قومی آوازاسلام آباد

فرانس اور جرمنی نے آپس کی نفرتیں کیسے ختم کیں:
ہمارے دوست ناظر محمود صاحب نے آج دی نیوز اخبار میں اپنے مضمون میں پاکستان میں جرمنی سفیر کی کچھ باتیں اس موضوع پر لکھی ہیں۔ آپ کو پتا ہی ہوگا، فرانس اور جرمنی میں دشمنی چلی آ رہی تھی اور جنگ عظیم دوم میں جرمنی نے فرانس پر قبضہ بھی کرلیا تھا۔ لیکن جنگ کے بعد جب عمومی طور پر مغرب کے تمام ممالک نے جنگ کی تباہ کاریوں سے سبق سیکھ لیا، کہ زندگی امن، تعاون اور دوستی سے عبارت ہے۔ اور اب انہوں نے جنگیں نہیں کرنی، امن سے زندہ رہنا ہے ، ترقی کرنی ہے، اپنے شہریوں کو خوشحال مستقبل دینا ہے۔ ظاہر ہے فرانسیسیوں اور جرمنوں میں اتنا ہی باہمی تعصب اور نفرت ہوگی۔۔ جتنی برصغیر میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہے۔ لیکن انہوں نے امن کا فیصلہ کرلیا، تو پھر جرمنی اور فرانس نے اپنے بارڈر کھول دیئے، دونوں طرف کے لوگوں کو آپس میں ملنے دیا، طلبا کے تبادلے کرائے، ایک دوسرے کی یونیورسٹیوں میں بھیجا۔۔دونوں طرف کے نوجوانوں کے لئے خصوصی بسیں چلائی، ایک دوسرے ملک کے تعلیمی اداروں میں انہیں آپس میں ملنے جلنے دیا۔۔ اس سے کیا ہوا، کہ ایک دوسرے کے بارے جو نفرتیں اور تعصبات تھے یا تلخ یادیں تھی۔۔ وہ مٹنی شروع ہوگئی اور ان کی جگہ دوطرفہ خیرسگالی کے جذبات نے لے لی۔ پھر جرمنی اور فرانس نے مل کر مشترکہ تاریخ کا نصاب مرتب کیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جو جو زیادتیاں کی ہوئی تھی۔ ان کا دفاع کرنے یا دوسرے پر الزامات لگانے کی بجائے۔۔۔ جوں کا توں ان کو تسلیم کیا۔۔۔ یعنی نصاب میں طلبا کو پڑھایا جانے لگا۔۔ کہ جرمنی نے فرانس پر یہ زیادتی کی۔۔ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف یہ کچھ کیا۔۔۔ اس سے بھی ایک دوسرے کے خلاف تلخیاں ختم ہوئی۔۔ جو تاریخ کی کتاب فرانس میں پڑھائی جاتی تھی، وہ تاریخ کی کتاب جرمنی میں پڑھائی گئی۔۔ اور کامن تاریخی ورثے کو اہمیت دی گئی۔۔

ناظر محمود لکھتے ہیں، کہ جرمنی کے سفیر نے پاکستانیوں کو کہا، کہ آپ بھی افغانستان، انڈیا اور پاکستان ایسا کریں۔ نوجوانوں اور طالب علموں کو ایک دوسرے ملک میں بھیجیں۔ اپنی ایک کامن تاریخ مرتب کریں۔۔ اپنے اپنے موقف کا دفاع کرنے کی بجائے۔۔۔ تلخ باتوں کو تسلیم کریں۔

میں یہ مضمون پڑھ کر ہنسا ہوں۔۔ یہ گورے بچارے کتنے معصوم ہیں۔۔وہ سمجھتے ہیں۔ کہ ہم دشمنیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور وہ ہمیں نکالنے کی ترکیبیں سمجھانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ دشمنی دشمنی ہماری ریاست کی اساس ہے، وہ نظریہ پاکستان ہے۔ دوسرے ملکوں، قوموں اور مذہبوں سے نفرت ہماری پہچان ہے۔۔ ہمیں دشمنی دل و جان سے عزیز ہے۔۔ بلکہ جو ہندوستان اور افغانستان سے نفرت کا اظہار نہ کرے۔۔ اس کی حب الوطنی مشکوک ہوجاتی ہے۔ وہ تو اپنے وطن کا غدار ہے ، مودی کا یار ہوتا ہے۔ زرا امن اور صلح کی بات کرو، ایجنسیاں اس شخص، تنظیم، پارٹی کو گندہ کرنا شروع کردیں گی۔ اگر منتخب وزیر اعظم ہندوستان کے ساتھ مسائل کو حل کرنا چاہے اس پر اور اس کے خاندان کے ہر فرد پر کرپشن ، چور، ڈاکو، بھارت کا ایجنٹ کہہ کر جینا حرام کردیا جاتا ہے۔۔

اس جرمن کے سفیر کو کوئی سمجھائے، ارے بھیا۔۔۔ ہم تو سمجھتے ہیں۔ انڈیا سے دشمنی نہیں کریں گے، تو پاکستان ہی قائم نہیں رہے گا۔ مشترکہ تاریخ ہم پڑھائیں ۔۔ لاحول پڑھو۔۔ ابھی تو ہم نے ایٹم بم چلانے ہیں۔۔


متعلقہ خبریں