عمران خان کے ہنگامے، 2014 میں چینی صدر اور 2022 میں سعودی ولی عہد کے دورے منسوخ

Source :Geo T.V

ملکی تاریخ میں آٹھ سال کے عرصہ میں دوسری بار تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تخریبی سیاست کے نتیجے میں دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو نقصان ہوا۔

پہلی بار2014 میں عمران خان نے کاروبار حکومت بند کر کے ملکی معیشت کو متزلزل کرنے کے لئے وفاقی دارالحکومت کو 126روز تک محصور رکھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس طویل دھرنے کے دوران دنیا کو یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان ایک شورش زدہ ملک ہے یہاں کسی حکومت یا ادارے کی کوئی حیثیت نہیں اور تحریک انصاف ملک میں امام خمینی طرز کا انقلاب لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

اس دوران کنٹینر سے عوام کو “مارو۔۔ مرجاؤ۔۔ ملک کو آگ لگا دو۔۔نظام کو تہہ و بالا کر دو۔۔” کی ترغیب دی گئی۔۔ملک میں سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو ٹیکس ادا نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔۔کنٹینر پر خود عمران خان نے بجلی اور گیس کے بلوں کے علاوہ یوٹیلیٹی بل جلائے۔۔سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارتوں کی تضحیک اور توہین کی گئی۔۔پی۔ٹی۔وی ہیڈکواٹرز سمیت سرکاری عمارتوں پر قبضے کر کے مفتوح عمارتوں پر تحریک انصاف کے جھنڈے لہرا کر دنیا میں پاکستان کو شورش زدہ ملک ظاہر کیا گیا۔۔

ملک میں پیدا کی جانے والی بد امنی، شورش اور تخریبی سیاست کے نتیجے میں چین کے صدر شی جن پنگ نے جو سی پیک معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لئے 20 اپریل 2014 کو پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر آ رہے تھے, اپنا دورہ منسوخ کر دیا جس کا فائدہ بھرپور انداز میں بھارت کو ہوا کیونکہ چین کے سربراہ بھارت چلے گئے اور وہاں انہوں نے کئی ایسے معاہدے بھی دستخط کئے جو پاکستان کے ساتھ ہو سکتے تھے اور ملک کو صرف ایک شخص کی تخریبی سازش کے نتیجے میں اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

عمران خان کی منفی انداز سیاست کے نتیجے میں پاکستان میں 20 ارب ڈالرز سے سرمایہ کاری کے منصوبے لے کر پاکستان آنے کے لئے تیار سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلطان نے 20 نومبر کو شروع ہونے والا سرکاری دورہ معطل کر دیا ہے۔

ان منصوبوں میں 10.5 ارب ڈالر کی لاگت سے بلوچستان کے علاقہ حب میں لگائی جانے والی آئل ریفائنری بھی شامل ہے لیکن ’’دی نیوز‘‘ کے ماہر معاشیات خالد مصطفیٰ کی اس خبر نے کہ اس میگا ریفائنری پروجیکٹ کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاملات معقول حد تک آگے بڑھ گئے ہیں، پاکستان کے معاشی استحکام کی امید کو مزید روشن کردیا ہے۔

امام خمینی بن کر حکومت حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والے عمران خان کو شاiد یہ علم کہ وہ جان بوجھ کر یا انجانے میں جو کچھ کر رہے ہیں اس براہ راست فائدہ بھارت کو پہنچ رہا ہے کیونکہ 2014 کے دھرنے کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کی منسوخی کا جس قدر نقصان پاکستان کو ہوا اس سے کہیں زیادہ فائدہ بھارت کو ہوا۔۔

عمران خان کی منفی طرز سیاست سے اختلاف رکھنے والوں کا یہ یقین دن بدن پختہ ہو رہا ہے کہ “عمران خان پاکستان کے خلاف کسی خاص ایجنڈے پر کام کررہے ہیں”-وزیرآباد کے ناخوشگوار واقعہ کو عمران خان نے قانونی تقاضوں کے برعکس چل کر انتہائی متنازعہ بنا دیا۔۔اس واقعہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی ساکھ کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ عوام کے درمیان یہ بحث شروع ہو گئی کہ خان صاحب کو کوئی گولی لگی بھی ہے یا یہ بھی ان کا سیاسی بیانیہ ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لانگ مارچ میں شرکاء کی تعداد میں واضع کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ عمران خان نے فائرنگ کے واقعہ کو کسی خاص اشارے پر ایف۔آئی۔آر کے اندراج کو متنازعہ بنا تے ہوئے حساس ادارے کے سرونگ جنرل کو نامزد کرکے پوری دنیا میں پاکستانی فوج کو متنازعہ بنانے کا سبب پیدا کیا گیا۔

اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اسرائیل اور بھارت سمیت پاکستان دشمن ممالک کو پاکستان کو اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی فورمز سے دہشتگرد ملک قرار دلانے کے لئے ایک ایسی سرکاری دستاویز درکار ہے جسے ثبوت کے طور پر ان فورمز میں پیش کیا جاسکے۔۔اور FIR سے زیادہ مؤثر دستاویز کوئی اور نہیں ہو سکتی کیونکہ اس دستاویز کے ذریعے حساس ادارے کو متنازعہ بنا کر ملکی سلامتی کو کمزور اور ایٹمی صلاحیت کو خطرے میں ڈالا جاسکتا ہے ۔۔ اور یہی بھارت کا مشن اور یہی خواہش ہے۔۔کیا اس بار پیدا کئے جانے والے حالات کا فائدہ بھی بھارت کو ہی ہو گا۔


متعلقہ خبریں