قومی ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا لوہا منوا لیا

برسبین(ویب ڈیسک) برسبین ٹیسٹ میں آخری 4 پاکستانی بیٹسمینوں نے مزاحمت کی نئی مثال قائم کردی، ہدف کے تعاقب میں230رنز کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا،اس مرحلے پر 3ففٹی شراکتوں کا بھی پہلا موقع ہے۔تفصیلات کے مطابق برسبین ٹیسٹ میں پاکستان کے آخری 4 بیٹسمین 230 رنز جوڑنے میں کامیاب ہوئے جو ہدف کے تعاقب میں کسی بھی ٹیم کا نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل بھارت نے لارڈز ٹیسٹ 2002 میں 227 رنز بنائے تھے، پاکستان نے مذکورہ 4 وکٹیں گنوانے کے سفر میں 3 ففٹی شراکتیں قائم کیں،ایسا موقع بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی بار آیا، پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی اور دوسری اننگز میں 308رنز کے فرق کی تیسری بڑی مثال قائم کی، برج ٹاون ٹیسٹ 1957میں گرین کیپس نے پہلی باری میں 106 رنز پر ڈھیر ہونے کے بعد دوسری میں حنیف محمد کی یادگار ٹرپل سنچری کی بدولت 8 وکٹ پر 657 رنز بنائے تھے، یہ ایک ہی میچ کی دو اننگز کا سب سے بڑا فرق تھا۔اسد شفیق 137 رنز کے ساتھ گابا اسٹیڈیم میں چوتھی اننگز کے دوران سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے، اس سے قبل سنیل گاوسکر 1977/78 اور شیرون کیمپ بیل 1996/97 میں 113،113 رنز بناچکے ہیں۔ ہدف کے تعاقب میں کسی بھی نمبر 6 یا بعد کے بیٹسمین کی جانب سے یہ تیسری بڑی اننگز ہے، سب سے زیادہ اسکور ایڈم گلگرسٹ نے ساتویں نمبر پر کھیلتے ہوئے بنایا، انھوں نے پاکستان کے خلاف ہوبارٹ ٹیسٹ 1999 میں ناقابل شکست 149 رنز سکور کیے تھے، ڈینیئل ویٹوری نے کولمبو ٹیسٹ 2009 میں آٹھویں نمبر پر کھیلتے ہوئے 140 رنز بنائے۔آسٹریلوی ٹیم گابا اسٹیڈیم میں آخری بار 1988 میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئی، جس کے بعد اب تک 28 ٹیسٹ میں ناقابل شکست ہے، اس دوران کینگروز نے یہاں 22 معرکوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ 6 ڈرا ہوئے۔


متعلقہ خبریں